زخم کھاتے ہیں اور مسکراتے ہیں ہمحوصلہ اپنا خود آزماتے ہیں ہمآ لگا ہے کنارے سفینہ مگرشور تو عادتاً ہی مچاتے ہیں ہمہم جو ڈوبیں تو کوئی نہ پھر بچ سکےایسا ساگر میں طوفاں اٹھاتے ہیں ہمچور کر بھی چکے دل کے شیشے کو وہاپنی ہمت ہے پھر چوٹ کھاتے ہیں ہمبے رخی سے جو دل توڑ دیتے ہیں جوشؔان کے ہی پیار کے گیت گاتے ہیں ہم
Many of life’s failures are people who did not realize how close they were to success when they gave up.
Thomas A. Edison

Leave a comment